جنگ آور
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - لڑنے والا، جنگ جو، بہادر۔ "عرب میں جو مشہور شاعر گزرے ہیں وہی مشہور بہادر اور جنگ آور تھے۔" ( ١٩٠٨ء، مقالات شبلی، ٥٠:٢ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'جنگ' کے ساتھ مصدر 'آوردن' سے صیغۂ امر 'آور' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے مرکب 'جنگ آور' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء میں "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - لڑنے والا، جنگ جو، بہادر۔ "عرب میں جو مشہور شاعر گزرے ہیں وہی مشہور بہادر اور جنگ آور تھے۔" ( ١٩٠٨ء، مقالات شبلی، ٥٠:٢ )